جمعرات 27 اگست 2026 - 10:47
مشتعل ہجوم: نفسیات، محرومیاں اور معاشرتی ذمہ داری

حوزہ/سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے پورے معاشرے کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ کسی بھی انسان کی جان کا ضیاع، تشدد، قانون کو ہاتھ میں لینا یا مشتعل ہجوم کے ذریعے فیصلے کرنا نہ صرف اخلاقی اور انسانی اقدار کے منافی ہے؛ بلکہ ایک مہذب معاشرے کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔

تحریر: سید انجم رضا

حوزہ نیوز ایجنسی|

سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے پورے معاشرے کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ کسی بھی انسان کی جان کا ضیاع، تشدد، قانون کو ہاتھ میں لینا یا مشتعل ہجوم کے ذریعے فیصلے کرنا نہ صرف اخلاقی اور انسانی اقدار کے منافی ہے؛ بلکہ ایک مہذب معاشرے کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔

اس سانحے کے تمام پہلوؤں کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ تاہم ایسے واقعات کو محض ایک فرد یا گروہ کے عمل تک محدود کرنے کے بجائے ان سماجی، نفسیاتی، معاشی اور تعلیمی عوامل کا بھی جائزہ لینا ناگزیر ہے جو بعض اوقات عام افراد کو مشتعل ہجوم کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ یہ سانحہ ہمیں اس امر پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم بطور معاشرہ قانون کی بالادستی، انسانی جان کے احترام، شعور، برداشت اور ذمہ دارانہ رویوں کو کس طرح فروغ دے سکتے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کا تدارک کیا جا سکے

مشتعل ہجوم محض چند غصے میں بھرے ہوئے افراد کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک ایسا اجتماعی رویہ ہے جس میں فرد کی انفرادی شناخت، ذمہ داری اور احتیاط بتدریج پسِ پشت چلی جاتی ہے اور اجتماعی جذبات اس کے فیصلوں پر غالب آجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایسے عام نوجوان، جو انفرادی زندگی میں بظاہر پُرامن اور معمول کے مطابق دکھائی دیتے ہیں، اچانک ایک ایسے ہجوم کا حصہ بن جاتے ہیں جو توڑ پھوڑ، تشدد اور انسانی جان و مال کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔

جب فرد ہجوم کا حصہ بن جاتا ہے

ماہرینِ نفسیات کے مطابق ہجوم کا نفسیاتی اثر فرد کے رویے کو نمایاں طور پر تبدیل کرسکتا ہے۔ اکیلا انسان کسی اقدام کے نتائج، قانون، معاشرتی ردِعمل اور اپنے ضمیر کے بارے میں سوچتا ہے، لیکن جب وہ ایک بڑے ہجوم میں شامل ہوجاتا ہے تو اس کے اندر ذاتی ذمہ داری کا احساس کم ہونے لگتا ہے۔ اسے یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ اس کے عمل کی ذمہ داری صرف اس پر عائد نہیں ہوگی بلکہ پورا ہجوم اس کا ذمہ دار ہے۔

یہی کیفیت بعض اوقات انسان کے اندر موجود خوف، احتیاط اور اخلاقی رکاوٹوں کو کمزور کردیتی ہے۔ ایک فرد جو تنہائی میں کسی پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے کئی مرتبہ سوچ سکتا ہے، ہجوم کے جذباتی ماحول میں وہی شخص دوسروں کی دیکھا دیکھی انتہائی قدم اٹھانے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔

اس لیے مشتعل ہجوم کی طاقت صرف اس کی تعداد میں نہیں ہوتی بلکہ اس اجتماعی نفسیات میں ہوتی ہے جو افراد کو ایک دوسرے کے جذبات سے متاثر کرکے ایک مشترکہ غصے میں تبدیل کردیتی ہے۔

محرومی، غصہ اور بے بسی

تاہم ہجوم کے تشدد کو صرف نفسیاتی مسئلہ قرار دینا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ معاشرتی اور معاشی محرومیاں، طبقاتی تفریق، بے روزگاری، ناانصافی، ریاستی اداروں پر عدم اعتماد اور مسلسل عدم تحفظ بھی انسان کے اندر غصے اور بے بسی کو جنم دیتے ہیں۔

معاشرے کا کمزور فرد اکثر اپنے مسائل کی اصل وجہ تک رسائی نہیں رکھتا۔ وہ ان بااثر طبقات کے سامنے اپنی آواز مؤثر انداز میں نہیں اٹھا پاتا جو اس کے مسائل کا سبب یا ان کے حل کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ نتیجتاً اس کے اندر جمع ہونے والا غصہ کسی نسبتاً کمزور فرد، گروہ یا طبقے کے خلاف نکل سکتا ہے۔

یہ صورتِ حال اس وقت مزید خطرناک ہوجاتی ہے جب محرومی کے ساتھ اشتعال انگیز بیانیہ بھی شامل ہوجائے۔ پھر ایک معمولی واقعہ بھی برسوں سے جمع شدہ غصے کے لیے چنگاری کا کام کرسکتا ہے۔

اصل مسئلہ صرف ہجوم نہیں، وہ ماحول بھی ہے جو ہجوم پیدا کرتا ہے

اگر ہم ہر ایسے واقعے کے بعد صرف ہجوم کو موردِ الزام ٹھہرا کر معاملہ ختم کردیں تو شاید ہم اصل مسئلے تک کبھی نہ پہنچ سکیں۔ سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ ایسے حالات کیوں پیدا ہوتے ہیں جن میں ایک عام شہری قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادہ ہوجاتا ہے؟

جب معاشرے میں انصاف کے حصول کے راستے پیچیدہ، سست یا غیر مؤثر محسوس ہونے لگیں، جب شہریوں کو یہ یقین نہ رہے کہ ان کے مسائل قانونی اور آئینی طریقے سے حل ہوسکتے ہیں، اور جب طاقتور اور کمزور کے لیے قانون کے مختلف پیمانے نظر آئیں تو ریاستی نظام پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔

ایسے ماحول میں بعض افراد یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ فوری اور اجتماعی طاقت ہی انصاف حاصل کرنے کا راستہ ہے۔ یہی سوچ قانون کی حکمرانی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

اشرافیہ کی ذمہ داری

ایسے واقعات کے بعد حکمران، سیاسی رہنما اور بااثر طبقات اکثر مذمت، امداد اور کارروائی کے اعلانات کرتے ہیں۔ یہ اقدامات اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن اصل ضرورت اس سے کہیں آگے کی ہے۔

اگر ہر واقعے کے بعد صرف وقتی ردِعمل دیا جائے اور ان بنیادی محرومیوں، ناانصافیوں، تعلیمی پسماندگی، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی کمزوریوں کو دور نہ کیا جائے جو ایسے جذبات کو جنم دیتی ہیں تو مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔

ریاست کی ذمہ داری صرف امن و امان برقرار رکھنا نہیں بلکہ ایسا معاشرہ تشکیل دینا بھی ہے جہاں شہری خود کو محفوظ، باعزت اور انصاف کا حق دار سمجھیں۔

معاشرتی اقدار کا زوال

مشتعل ہجوم کے مسئلے کا ایک اہم پہلو معاشرتی اقدار کا انحطاط بھی ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد انسانی جان، عزت، آزادی، ملکیت اور قانون کے احترام پر قائم ہوتی ہے۔ جب یہ تصورات کمزور پڑنے لگیں تو تشدد کے لیے راستہ ہموار ہوجاتا ہے۔

کسی انسان کو محض الزام، افواہ یا جذبات کی بنیاد پر سزا دینا، کسی کی املاک کو نقصان پہنچانا، کسی عمارت کو آگ لگانا یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا دراصل صرف ایک فرد کے خلاف زیادتی نہیں بلکہ پورے معاشرتی نظام کے خلاف اقدام ہے۔

تشدد کسی محرومی کا حقیقی علاج نہیں۔ یہ ایک مسئلے کو ختم کرنے کے بجائے کئی نئے مسائل پیدا کرتا ہے اور معاشرے میں خوف، انتقام اور بداعتمادی کا دائرہ وسیع کرتا ہے۔

افواہ: ہجوم کو بھڑکانے والی چنگاری

مشتعل ہجوم کے بننے میں افواہوں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں ایک غیر مصدقہ خبر چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ جذباتی، اشتعال انگیز یا جھوٹی معلومات جب بار بار شیئر کی جاتی ہیں تو بعض افراد اسے حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ غصے کی کیفیت میں انسان تحقیق کے بجائے فوری ردِعمل کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک جھوٹی اطلاع، غلط فہمی یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی ویڈیو بڑے پیمانے پر اشتعال پیدا کرسکتی ہے۔

اس صورتِ حال میں سب سے اہم سوال یہ ہونا چاہیے:

کیا ہم نے ردِعمل دینے سے پہلے حقیقت جاننے کی کوشش کی؟

اگر جواب نفی میں ہو تو ہمارا غصہ انصاف نہیں بلکہ لاعلمی کا اظہار بن سکتا ہے۔

تعلیم صرف ڈگری نہیں، شعور کا نام ہے

ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تعلیم کو محض اسکول، کالج یا یونیورسٹی کی سند تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ معاشرے کو ایسی تعلیم کی ضرورت ہے جو انسان میں سوال کرنے، تحقیق کرنے، اختلاف برداشت کرنے، دلیل سننے اور حقیقت کی تصدیق کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔

ایک باشعور شہری افواہ سنتے ہی مشتعل نہیں ہوتا۔ وہ پہلے معلومات کی صحت جانچتا ہے، قانون کو سمجھتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ اس کے عمل کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔

اسی لیے تعلیم دراصل ہجوم کے خلاف سب سے مضبوط سماجی قوت بن سکتی ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرہ صرف پڑھا لکھا معاشرہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایسا معاشرہ ہوتا ہے جہاں فرد اپنے جذبات کو عقل، اخلاق اور قانون کے تابع رکھنا سیکھتا ہے۔

نصیحت کافی نہیں، نظام کی اصلاح ضروری ہے

مشتعل ہجوم کے مسئلے پر صرف وعظ، نصیحت اور اخلاقی تقاریر کافی نہیں۔ یقیناً اخلاقی تربیت ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ان عوامل کا خاتمہ بھی ضروری ہے جو انسان کو مسلسل محرومی، غصے، بے بسی اور ناانصافی کی طرف دھکیلتے ہیں۔

اگر معاشرے میں انصاف مضبوط ہوگا، قانون سب کے لیے یکساں ہوگا، تعلیم عام ہوگی، نوجوانوں کے لیے باعزت مواقع پیدا ہوں گے، اداروں پر اعتماد بحال ہوگا اور اختلاف کو تشدد کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی روایت مضبوط ہوگی تو ہجوم کے جنون کے امکانات بھی کم ہوں گے۔

نوجوانوں کو دشمن نہیں، طاقت سمجھنا ہوگا

یہ بھی ضروری ہے کہ ہم نوجوانوں کو صرف ممکنہ مشتعل ہجوم کے طور پر نہ دیکھیں۔ یہی نوجوان اگر مناسب تعلیم، تربیت، روزگار، مثبت قیادت اور تعمیری مواقع حاصل کریں تو معاشرے کی سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔

مسئلہ نوجوانوں کی توانائی نہیں بلکہ اس توانائی کی سمت ہے۔ اگر انہیں مقصد، امید اور مثبت کردار ملے تو وہ تعمیر کرسکتے ہیں؛ اگر انہیں محرومی، غصہ، غلط معلومات اور اشتعال انگیزی ملے تو یہی توانائی تباہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

ہجوم کو روکنے سے پہلے ہجوم پیدا کرنے والے عوامل روکیں

مشتعل ہجوم کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے نفسیاتی کیفیت، معاشرتی محرومی، طبقاتی ناانصافی، ریاستی کمزوری، اخلاقی انحطاط، افواہوں کا پھیلاؤ، کمزور تعلیمی شعور اور قانون پر عدم اعتماد جیسے متعدد عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں۔

اس لیے اس مسئلے کا حل صرف پولیس، طاقت یا سخت سزاؤں میں نہیں۔ قانون کی عمل داری ضرور ہونی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے بنیادی مسائل کو بھی حل کرنا ہوگا۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہجوم صرف سڑکوں پر نہیں بنتا، وہ ذہنوں میں بنتا ہے۔ جب محرومی غصے میں، غصہ نفرت میں اور نفرت افواہ کے ساتھ مل جائے تو ایک عام فرد بھی خطرناک اجتماعی رویے کا حصہ بن سکتا ہے۔

لہٰذا ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ مشتعل ہجوم نے کیا کیا؟ بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ وہ ہجوم بنا کیوں؟

اگر ہم اس دوسرے سوال کا ایمانداری سے جواب تلاش کرلیں اور ان بنیادی اسباب کو دور کرنے کی کوشش کریں جو افراد کو تشدد اور ہجوم کی طرف دھکیلتے ہیں، تو ہم محض ایک واقعے کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔

کیونکہ پائیدار امن صرف ہجوم کو منتشر کرنے سے نہیں آتا؛ پائیدار امن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معاشرہ اپنے شہریوں کو انصاف، تعلیم، عزت، مواقع اور قانون پر اعتماد فراہم کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha